OODKA NEWS

thumbnail

لارنس بشنوئی کی سلمان خان کو ایک اور دھمکی

 لارنس بشنوئی کی سلمان خان کو ایک اور دھمکی


سدھو موسے والا کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار لارنس بشنوئی نے جیل سے سلمان خان کو ایک اور دھمکی  دی ہے۔

خیال رہے کہ سدھو موسے والا کو 29 مئی کو ضلع مانسا کے گاؤں جواہر میں نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا، اس واقعے میں سدھو کی گاڑی پر 30 گولیاں برسائی گئی تھیں جس کے نتیجے میں سدھو موسے والا موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے جب کہ ان کی گاڑی میں موجود دو افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔


اس کے قتل کے الزام میں پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لیا اور اس کے پیچھے لارنس بشنوئی گینگ کا ہاتھ بتایا۔

پولیس نے سدھو موسے والا کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں لارنس بشنوئی کو بھی حراست میں لے لیا تھا جو اس وقت دہلی کی جیل میں ہے۔

لارنس بشنوئی نے سدھو موسے والا کے قتل کے بعد سلمان خان اور ان کے والد سلیم خان کو دھمکی آمیز خط بھی بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا حال بھی سدھو موسے والا جیسا کردیا جائے گا۔

سلیم خان کے سکیورٹی گارڈ کو دھمکی آمیز خط اس بینچ پر ملا جہاں سلیم خان روزانہ جاگنگ کے بعد بیٹھتے ہیں۔


اس دھمکی کے بعد سلمان خان کی سکیورٹی بڑھادی گئی ہے جبکہ وہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر اپنے مداحوں کو عید کی مبارک باد دینے بھی باہر نہیں نکلے۔ 

اب بھارتی میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی حراست میں موجود گینگسٹر لارنس بشنوئی نے سلمان خان کیخلاف ایک اور دھمکی جاری کی ہے۔


Another threat from Lawrence Bishnoi to Salman Khan


Another threat from Lawrence Bishnoi to Salman Khan

thumbnail

تحریک عدم اعتماد کامیاب، عمران خان وزیراعظم نہیں رہے

 

تحریک عدم اعتماد کامیاب

اسلام آبادمتحدہ اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی، جس کے بعد عمران خان اب وزیراعظم نہیں رہے۔ اسپیکر اسد قیصر کے مستعفی ہونے کے بعد قائم مقام اسپیکر ایاز صادق نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی کارروائی مکمل کی۔

سپریم کورٹ کے حکم پر قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر  کی سربراہی میں صبح ساڑھے 10 بجے طلب کیا گیا، جس میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے تقاریر کیں تاہم عدم اعتماد پر رات ساڑھے گیارہ بجے تک عدم اعتماد پر کوئی کارروائی نہیں ہوسکی تھی۔

No-confidence motion successful, Imran Khan is no longer Prime Minister


اسد قیصر کا استعفیٰ

صبح دس بجے سے جاری اجلاس میں ڈرامائی موڑ  اُس وقت آیا جب اسپیکر اسد قیصر نے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پانچویں بار اجلاس کی  مختصر صدارت  کی اور رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب استعفیٰ دینے کا اعلان کیا، پھر انہوں نے ایاز صادق سے ایوان کی کارروائی جاری رکھنے کی استدعا کی۔

اسد قیصر کے استعفے کے بعد حکومتی اراکین نے امریکا اور اپوزیشن کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور احتجاجاً ایوان کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔

ایاز صادق کی سربراہی میں ایوان کی کارروائی

ایاز صادق نے اسپیکر کی نشست سنبھالتے ہی قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پر کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا اور اجلاس کو چار منٹ کے لیے ملتوی کیا، بعد ازاں اجلاس نئے دن کے آغاز پر دوبارہ تلاوتِ کلام پاک سے شروع ہوا۔

بعد ازاں عدم اعتماد کی ووٹنگ پر کارروائی شروع ہوئی، جس پر اراکین نے باری باری ووٹ کاسٹ کیے، تحریک عدم اعتماد کی حمایت میں 174 ووٹ ڈالے گئے، جس کے بعد عمران خان ملک کے وزیراعظم نہیں رہے جبکہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین نے عدم اعتماد کی کارروائی میں ووٹ کاسٹ نہیں کیے۔

ایاز صادق کا عدم اعتماد کی کامیابی کا اعلان

قائم مقام اسپیکر نے ووٹنگ کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد بتایا کہ عدم اعتماد کی حمایت میں 174 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے، جس کے بعد اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن جماعتوں کے تمام قائدین یہاں موجود ہیں اور ہم سب نوازشریف کی کمی بہت زیادہ شدت سے محسوس کررہے ہیں۔

 

 

No-confidence motion successful, Imran Khan is no longer Prime Minister

thumbnail

شہباز شریف نے وزیراعظم کو ملک کیلئے سیکیورٹی رسک قرار دےدیا

 

اسلام آبادپاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے وزیراعظم عمران خان کو ملک کے لیے سیکیورٹی رسک قرار دے دیا۔ 

پارلیمانی اراکین کے اعزاز میں عشائیہ سے خطاب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ موصوف نے تقریر کے شوق میں پاکستان کے لیے آج نئی مشکلات پیدا کرنے کی حماقت کی ہے، عمران خان کو احساس نہیں کہ پاکستان کے سفارتی تعلقات سے پاکستان اور اس کے عوام کے معاشی تعلقات وابستہ ہیں۔

Shehbaz Sharif termed the Prime Minister as a security risk for the country


انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے دوستوں کو ناراض کیا، بدتہذیبی کا نام آزاد خارجہ پالیسی نہیں ہوتا، سلیکٹڈ ہی کیوں نہ ہو لیکن وزیراعظم پاکستان کے طور پر خارجہ پالیسی پر فاش غلطی کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔

صدر مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ عمران خان نیازی کو یہ کہتے ہوئے شرم آنی چاہیے کہ شہبازشریف امریکا کے خلاف نہیں بولے گا کیونکہ اس کے وہاں پیسے ہیں، نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ اور برطانیہ کی عدالتوں کے فیصلوں کے بعد عمران نیازی کو یہ بات کرتے ہوئے کوئی خوف خدا ہونا چاہیے، نیشنل کرائم ایجنسی 2 سال تک چھان بین کرتی رہی اور کوئی اکانٹ نہیں چھوڑا۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل کرائم ایجنسی نے 15 سال کے ریکارڈ کی چھان بین کی اور مجھے کلین چٹ دی، برطانوی عدالت نے کہا کہ شہبازشریف کے خلاف تمام الزامات جھوٹ ہیں، ترقی پزیر ممالک کو تعلیم اور علاج کے لیے امداد دینے والے برطانوی ادارے ڈیفیڈ کے کروڑوں پانڈ کا گھٹیا الزام لگایا گیا ڈیفیڈ نے اس کی تردید کی۔

شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان نے پاکستان کو بدنام کرنے کی گھنانی سازش کی تھی لیکن نیب نیازی گٹھ جوڑ اور ایف آئی اے کو منہ کی کھانی، میرے خلاف ایک دھیلے کی بھی کرپشن نکل آتی تو میں قوم کو منہ دکھانے کے قابل نہ ہوتا، کسی جنگل میں چلا جاتا۔

عمران نیازی آئین سے لڑنے اور قانون سے ٹکرانے کی بات کررہا ہے، 22 کروڑ عوام کی تائید وحمایت سے اتوارکے دن پارلیمان میں 172 سے کہیں زیادہ نمبر سے تمہیں گھر بھجوائیں گے، آج کے خطاب تک عوام اور پارلیمنٹ کو خط نہیں دکھایا گیا، صرف مندرجات بتائے جارہے ہیں۔

 

Shehbaz Sharif termed the Prime Minister as a security risk for the country

thumbnail

اپوزیشن کا وزیراعظم کو فیس سیونگ دینے سے انکار، مصالحت کی امیدیں دم توڑ گئیں

اسلام آبادمتحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم کو فیس سیونگ دینے سے انکار کردیا اور کہا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر کارروائی جاری رہے گی انہیں کوئی این آر او نہیں دیا جائے گا۔

متحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کو فیس سیونگ دینے سے انکار کر دیا، اہم شخصیات نے اپوزیشن قیادت سے رابطہ کیا اور مختلف تجاویز پر بات چیت کی، اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کی رات بھر باہمی مشاورت جاری رہی، لندن میں بھی رابطے کئے گئے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی قیادت نے کوئی بھی معاہدہ کرنے سے متفقہ طور پر انکار کردیا ہے۔

Opposition refuses to give fee savings to PM, hopes for reconciliation shattered


ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کا عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اپوزیشن قائدین کا مؤقف ہے کہ عمران خان کے لئے کوئی رعایت نہیں ہوگی، وہ استعفیٰ دیں یا تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروا لیں۔

گزشتہ راتعسکری قیادت نے حکومت کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لئے دونوں فریقین کو آپشنز دیئے تھے، تاہم اب اپوزیشن کی جانب سے دو ٹوک جواب کے بعد مصالحت کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔

اپوزیشن کا اجلاس، 172 سے زائد ارکان قومی اسمبلی کی شرکت

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی رہائش گاہ پر متحدہ اپوزیشن کے قائدین کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیاسی صورتحال اور تحریک عدم اعتماد پر مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں متحدہ اپوزیشن اوراس کا ساتھ دینے والی جماعتوں کے 172 ارکان قومی اسمبلی نے شرکت کی۔

اجلاس کے شرکا نے متحدہ اپوزیشن کے پاس نمبر گیم پورے ہونے اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے ارکان قومی اسمبلی کی مطلوبہ سے زائد تعداد میں دستیابی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شرکا نے آئین، قانون اور پارلیمانی جمہوری عمل کے ذریعے تحریک عدم اعتماد کو طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کے فیصلے کا اعادہ کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ عمران نیازی کو اپوزیشن کوئی این آر او نہیں دے گی، اس ضمن میں ذرائع سے چلائی جانے والی گمراہ کن خبریں متحدہ اپوزیشن کے فیصلے کو تبدیل نہیں کراسکتیں۔

اعلامیے کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے متحدہ اپوزیشن ملک میں نئی جمہوری اور آئینی روایات قائم کرے گی اور ماضی کے غیر جمہوری رویوں کو ہمیشہ کے لئے ترک کرکے نئے جمہوری و آئینی سفر کا آغاز کرے گا۔

اعلامیے کے مطا بق اجلاس نے قرار دیا کہ عمران نیازی اکثریت کھو چکے ہیں اور وزیراعظم کے منصب پر غیر آئینی طور پر قابض ہیں، اقتدار سے چمٹے رہنے کی آمرانہ خواہش میں وہ ایک لاکھ لوگوں کو اسلام آبادلانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور ملک کو تصادم، انتشار اور افراتفری سے دوچار کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ ایسے عاقبت نااندیشانہ اقدام کے تمام تر نتائج کے ذمہ دار عمران نیازی ہوں گے، اجلاس حکومتی مشینری بشمول آئی جی اسلام آباد، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں پر واضح کرنا چاہتا ہے کہ وزیراعظم نہ رہنے والے شخص کے غیر آئینی اور غیر قانونی احکامات نہ مانیں، ایک سیاسی جماعت کا آلہ کار بننے کی کوشش کرنے والے حکام کو آئین اور قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔

 

Opposition refuses to give face savings to PM, hopes for reconciliation shattered


thumbnail

انتخابی مہم میں شرکت سے متعلق درخواست،وزیراعظم کوحکم امتناعی نہ مل سکا

 

اسلام آباد ہائیکورٹ نے انتخابی مہم میں وزیراعظم اوروزرا کی شرکت پرپابندی کے خلاف وزیراعظم کی درخواست پرتحریری حکم نامہ جاری 

کردیا۔

The Prime Minister could not get a restraining order


جسٹس عامر فاروق نے 3 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔وزیراعظم عمران خان اوروزیرمنصوبہ بندی اسد عمر کوحکم امتناعی نہ مل سکا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کونوٹس جاری کرتے ہوئے 28مارچ تک جواب طلب کرلیا۔اٹارنی جنرل کوبھی معاونت کے لئے طلب کرلیا گیا۔

نوٹس کے باوجود الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہونے پرعمران خان اوراسد عمرکوحکم امتناعی نہ مل سکا۔ وزیراعظم عمران خان کے وکیل نے کہا کہ انتخابی مہم میں وزیر اعظم اور وزراء کی شرکت پابندی خلاف قانون ہے۔

 

The Prime Minister could not get a restraining order

 

thumbnail

روبوٹک اسٹیشن کا حامل طوفانی بارش میں اڑنے والا ڈرون

 

کیلیفورنیاعام ڈرون طوفانی بارش اور موسلا دھار بارش میں ڈگمگاجاتے ہیں۔ اب ایم 300 آر ٹی کے ڈرون نہ صرف اپنے ہی ہیلی پیڈ نما ڈاکنگ اسٹیشن سے پرواز کرتا ہے بلکہ تیزبارش اور برفباری میں بھی اپنی ہموار پرواز جاری رکھتا ہے۔

یہ ڈرون صنعتی اور فضائی معیارات کے تحت بنایا گیا ہے جسے ڈی جے آئی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ مکمل طور پر واٹر پروف  ہے جسے موسم سے بچاؤ کے لیے ہرطرف سے بند کیا گیا ہے۔ ڈی جے آئی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کا نیا ڈرون ماڈل تیزبارش، بہت بلندی، طوفانی ہواؤں، برفباری اور ژالہ باری کے ساتھ ساتھ منفی 20 کی سردی اور 50 درجے کی گرمی میں آسانی سے کام کرسکتا ہے۔

A drone flying in a rainstorm with a robotic station


گردوغبار اور پانی سے محفوظ اس ڈرون کی آئی پی 45 ریٹنگ ہے جس پر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ بہت سے ڈرون اس سے بلند معیار کے ہیں تاہم یہ فولڈ ہونے والے ڈرون میں سب سے نمایاں اور بہترین مقام رکھتا ہے۔ ایک مرتبہ چارج ہونے کے بعد یہ مسلسل 41 منٹ تک پرواز کرسکتا ہے۔

دوسرا اہم پہلو روبوٹک ڈرون ان اے باکس ہے کیونکہ اس ڈرون کے ساتھ ڈاکنگ اسٹیشن بھی موجود ہے جو اس کی پرواز کو مکمل طور پر خودکار بناتا ہے۔ یہ باکس اتنا چھوٹا ہے کہ ڈبل کیبن گاڑی کے ڈالے میں آسانی سے رکھا جاسکتا ہے۔ ڈاکنگ اسٹیشن میں ایک چھوٹا موسمیاتی اسٹیشن ہے، کیمرے نصب ہیں، اینٹیناہے اور اس کی بیٹری 25 منٹ میں تیزی سے چارج ہوجاتی ہے۔ یہ سات کلومیٹر کے فاصلے تک ڈرون سے رابطے میں رہتا ہے۔

تاہم تمام خواص کے باوجود امریکہ میں اسے وہاں نہیں اڑایا نہیں جاسکتا جہاں پائلٹ بردار طیارے پرواز کرتے ہیں۔ ان سب کے باوجود اس کا خودکار نظام بہترین اور مؤثر ہے۔

A drone flying in a rainstorm with a robotic station

thumbnail

چین کو 4.2 ارب ڈالر قرضے کی ادائیگی پھر موخر

 

اسلام آبادچین نے پاکستان کے ذمے اپنا 4.2 ارب ڈالر قرضہ جس کی ادائیگی اسی ہفتے کی جانا تھی پھر مؤخرکردی۔

وزیرخزانہ شوکت ترین نے گفتگو میں قرضہ مؤخر ہونے کی تصدیق کردی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے چین سے یہ قرضے مؤخرکرنے کی درخواست کی تھی۔



Delay in repaying 4. 4.2 billion Loan to China

اس خبر کے فائل کرنے تک چینی سفارتخانہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تھا۔چین آئی ایم ایف کو2019ء میں کرائی گئی یقین دہانیوں کے تحت پاکستان کے ذمے اپنے قرضے مؤخرکرتا آرہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے چند ماہ قبل اپنے دورہ چین کے دوران بھی ان قرضوں کو مؤخرکرنے کی درخواست کی تھی۔پاکستان نے 21 ارب ڈالر قرضوں کی لائف لائن مانگی ہے۔ ان میں 10.7 ارب ڈالر کمرشل اور سیف ڈیپازٹس کے قرضے شامل ہیں۔

پاکستان کے پاس گزشتہ ہفتے تک 15.8 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر تھے۔پاکستان کے ذمہ بیرونی ادائیگیوں کی وجہ سے روپے پردباؤپڑ رہا ہے اور منگل کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرکر181.75 روپے ہوگئی ہے۔

پاکستان نے کرنسی تبادلے کی سہولت کا حجم 4.5 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر کرنے کی بھی درخواست کی تھی جو 5.5 ارب ڈالر کا اضافی قرضہ ہے تاہم چین نے ابھی تک اپنے فیصلے سے پاکستان کو آگاہ نہیں کیا۔کرنسی تبادلے کا معاہدہ چینی تجارتی مالیاتی سہولت ہے ۔

Delay in repaying  4.2 billion Loan to China