OODKA NEWS

Showing posts with label Latest News. Show all posts
thumbnail

لارنس بشنوئی کی سلمان خان کو ایک اور دھمکی

 لارنس بشنوئی کی سلمان خان کو ایک اور دھمکی


سدھو موسے والا کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار لارنس بشنوئی نے جیل سے سلمان خان کو ایک اور دھمکی  دی ہے۔

خیال رہے کہ سدھو موسے والا کو 29 مئی کو ضلع مانسا کے گاؤں جواہر میں نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا، اس واقعے میں سدھو کی گاڑی پر 30 گولیاں برسائی گئی تھیں جس کے نتیجے میں سدھو موسے والا موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے جب کہ ان کی گاڑی میں موجود دو افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔


اس کے قتل کے الزام میں پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لیا اور اس کے پیچھے لارنس بشنوئی گینگ کا ہاتھ بتایا۔

پولیس نے سدھو موسے والا کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں لارنس بشنوئی کو بھی حراست میں لے لیا تھا جو اس وقت دہلی کی جیل میں ہے۔

لارنس بشنوئی نے سدھو موسے والا کے قتل کے بعد سلمان خان اور ان کے والد سلیم خان کو دھمکی آمیز خط بھی بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا حال بھی سدھو موسے والا جیسا کردیا جائے گا۔

سلیم خان کے سکیورٹی گارڈ کو دھمکی آمیز خط اس بینچ پر ملا جہاں سلیم خان روزانہ جاگنگ کے بعد بیٹھتے ہیں۔


اس دھمکی کے بعد سلمان خان کی سکیورٹی بڑھادی گئی ہے جبکہ وہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر اپنے مداحوں کو عید کی مبارک باد دینے بھی باہر نہیں نکلے۔ 

اب بھارتی میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی حراست میں موجود گینگسٹر لارنس بشنوئی نے سلمان خان کیخلاف ایک اور دھمکی جاری کی ہے۔


Another threat from Lawrence Bishnoi to Salman Khan


Another threat from Lawrence Bishnoi to Salman Khan

thumbnail

تحریک عدم اعتماد کامیاب، عمران خان وزیراعظم نہیں رہے

 

تحریک عدم اعتماد کامیاب

اسلام آبادمتحدہ اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی، جس کے بعد عمران خان اب وزیراعظم نہیں رہے۔ اسپیکر اسد قیصر کے مستعفی ہونے کے بعد قائم مقام اسپیکر ایاز صادق نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی کارروائی مکمل کی۔

سپریم کورٹ کے حکم پر قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر  کی سربراہی میں صبح ساڑھے 10 بجے طلب کیا گیا، جس میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے تقاریر کیں تاہم عدم اعتماد پر رات ساڑھے گیارہ بجے تک عدم اعتماد پر کوئی کارروائی نہیں ہوسکی تھی۔

No-confidence motion successful, Imran Khan is no longer Prime Minister


اسد قیصر کا استعفیٰ

صبح دس بجے سے جاری اجلاس میں ڈرامائی موڑ  اُس وقت آیا جب اسپیکر اسد قیصر نے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پانچویں بار اجلاس کی  مختصر صدارت  کی اور رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب استعفیٰ دینے کا اعلان کیا، پھر انہوں نے ایاز صادق سے ایوان کی کارروائی جاری رکھنے کی استدعا کی۔

اسد قیصر کے استعفے کے بعد حکومتی اراکین نے امریکا اور اپوزیشن کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور احتجاجاً ایوان کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔

ایاز صادق کی سربراہی میں ایوان کی کارروائی

ایاز صادق نے اسپیکر کی نشست سنبھالتے ہی قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پر کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا اور اجلاس کو چار منٹ کے لیے ملتوی کیا، بعد ازاں اجلاس نئے دن کے آغاز پر دوبارہ تلاوتِ کلام پاک سے شروع ہوا۔

بعد ازاں عدم اعتماد کی ووٹنگ پر کارروائی شروع ہوئی، جس پر اراکین نے باری باری ووٹ کاسٹ کیے، تحریک عدم اعتماد کی حمایت میں 174 ووٹ ڈالے گئے، جس کے بعد عمران خان ملک کے وزیراعظم نہیں رہے جبکہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین نے عدم اعتماد کی کارروائی میں ووٹ کاسٹ نہیں کیے۔

ایاز صادق کا عدم اعتماد کی کامیابی کا اعلان

قائم مقام اسپیکر نے ووٹنگ کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد بتایا کہ عدم اعتماد کی حمایت میں 174 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے، جس کے بعد اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن جماعتوں کے تمام قائدین یہاں موجود ہیں اور ہم سب نوازشریف کی کمی بہت زیادہ شدت سے محسوس کررہے ہیں۔

 

 

No-confidence motion successful, Imran Khan is no longer Prime Minister

thumbnail

شہباز شریف نے وزیراعظم کو ملک کیلئے سیکیورٹی رسک قرار دےدیا

 

اسلام آبادپاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے وزیراعظم عمران خان کو ملک کے لیے سیکیورٹی رسک قرار دے دیا۔ 

پارلیمانی اراکین کے اعزاز میں عشائیہ سے خطاب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ موصوف نے تقریر کے شوق میں پاکستان کے لیے آج نئی مشکلات پیدا کرنے کی حماقت کی ہے، عمران خان کو احساس نہیں کہ پاکستان کے سفارتی تعلقات سے پاکستان اور اس کے عوام کے معاشی تعلقات وابستہ ہیں۔

Shehbaz Sharif termed the Prime Minister as a security risk for the country


انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے دوستوں کو ناراض کیا، بدتہذیبی کا نام آزاد خارجہ پالیسی نہیں ہوتا، سلیکٹڈ ہی کیوں نہ ہو لیکن وزیراعظم پاکستان کے طور پر خارجہ پالیسی پر فاش غلطی کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔

صدر مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ عمران خان نیازی کو یہ کہتے ہوئے شرم آنی چاہیے کہ شہبازشریف امریکا کے خلاف نہیں بولے گا کیونکہ اس کے وہاں پیسے ہیں، نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ اور برطانیہ کی عدالتوں کے فیصلوں کے بعد عمران نیازی کو یہ بات کرتے ہوئے کوئی خوف خدا ہونا چاہیے، نیشنل کرائم ایجنسی 2 سال تک چھان بین کرتی رہی اور کوئی اکانٹ نہیں چھوڑا۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل کرائم ایجنسی نے 15 سال کے ریکارڈ کی چھان بین کی اور مجھے کلین چٹ دی، برطانوی عدالت نے کہا کہ شہبازشریف کے خلاف تمام الزامات جھوٹ ہیں، ترقی پزیر ممالک کو تعلیم اور علاج کے لیے امداد دینے والے برطانوی ادارے ڈیفیڈ کے کروڑوں پانڈ کا گھٹیا الزام لگایا گیا ڈیفیڈ نے اس کی تردید کی۔

شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان نے پاکستان کو بدنام کرنے کی گھنانی سازش کی تھی لیکن نیب نیازی گٹھ جوڑ اور ایف آئی اے کو منہ کی کھانی، میرے خلاف ایک دھیلے کی بھی کرپشن نکل آتی تو میں قوم کو منہ دکھانے کے قابل نہ ہوتا، کسی جنگل میں چلا جاتا۔

عمران نیازی آئین سے لڑنے اور قانون سے ٹکرانے کی بات کررہا ہے، 22 کروڑ عوام کی تائید وحمایت سے اتوارکے دن پارلیمان میں 172 سے کہیں زیادہ نمبر سے تمہیں گھر بھجوائیں گے، آج کے خطاب تک عوام اور پارلیمنٹ کو خط نہیں دکھایا گیا، صرف مندرجات بتائے جارہے ہیں۔

 

Shehbaz Sharif termed the Prime Minister as a security risk for the country

thumbnail

اپوزیشن کا وزیراعظم کو فیس سیونگ دینے سے انکار، مصالحت کی امیدیں دم توڑ گئیں

اسلام آبادمتحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم کو فیس سیونگ دینے سے انکار کردیا اور کہا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر کارروائی جاری رہے گی انہیں کوئی این آر او نہیں دیا جائے گا۔

متحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کو فیس سیونگ دینے سے انکار کر دیا، اہم شخصیات نے اپوزیشن قیادت سے رابطہ کیا اور مختلف تجاویز پر بات چیت کی، اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کی رات بھر باہمی مشاورت جاری رہی، لندن میں بھی رابطے کئے گئے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی قیادت نے کوئی بھی معاہدہ کرنے سے متفقہ طور پر انکار کردیا ہے۔

Opposition refuses to give fee savings to PM, hopes for reconciliation shattered


ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کا عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اپوزیشن قائدین کا مؤقف ہے کہ عمران خان کے لئے کوئی رعایت نہیں ہوگی، وہ استعفیٰ دیں یا تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروا لیں۔

گزشتہ راتعسکری قیادت نے حکومت کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لئے دونوں فریقین کو آپشنز دیئے تھے، تاہم اب اپوزیشن کی جانب سے دو ٹوک جواب کے بعد مصالحت کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔

اپوزیشن کا اجلاس، 172 سے زائد ارکان قومی اسمبلی کی شرکت

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی رہائش گاہ پر متحدہ اپوزیشن کے قائدین کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیاسی صورتحال اور تحریک عدم اعتماد پر مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں متحدہ اپوزیشن اوراس کا ساتھ دینے والی جماعتوں کے 172 ارکان قومی اسمبلی نے شرکت کی۔

اجلاس کے شرکا نے متحدہ اپوزیشن کے پاس نمبر گیم پورے ہونے اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے ارکان قومی اسمبلی کی مطلوبہ سے زائد تعداد میں دستیابی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شرکا نے آئین، قانون اور پارلیمانی جمہوری عمل کے ذریعے تحریک عدم اعتماد کو طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کے فیصلے کا اعادہ کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ عمران نیازی کو اپوزیشن کوئی این آر او نہیں دے گی، اس ضمن میں ذرائع سے چلائی جانے والی گمراہ کن خبریں متحدہ اپوزیشن کے فیصلے کو تبدیل نہیں کراسکتیں۔

اعلامیے کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے متحدہ اپوزیشن ملک میں نئی جمہوری اور آئینی روایات قائم کرے گی اور ماضی کے غیر جمہوری رویوں کو ہمیشہ کے لئے ترک کرکے نئے جمہوری و آئینی سفر کا آغاز کرے گا۔

اعلامیے کے مطا بق اجلاس نے قرار دیا کہ عمران نیازی اکثریت کھو چکے ہیں اور وزیراعظم کے منصب پر غیر آئینی طور پر قابض ہیں، اقتدار سے چمٹے رہنے کی آمرانہ خواہش میں وہ ایک لاکھ لوگوں کو اسلام آبادلانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور ملک کو تصادم، انتشار اور افراتفری سے دوچار کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ ایسے عاقبت نااندیشانہ اقدام کے تمام تر نتائج کے ذمہ دار عمران نیازی ہوں گے، اجلاس حکومتی مشینری بشمول آئی جی اسلام آباد، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں پر واضح کرنا چاہتا ہے کہ وزیراعظم نہ رہنے والے شخص کے غیر آئینی اور غیر قانونی احکامات نہ مانیں، ایک سیاسی جماعت کا آلہ کار بننے کی کوشش کرنے والے حکام کو آئین اور قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔

 

Opposition refuses to give face savings to PM, hopes for reconciliation shattered


thumbnail

انتخابی مہم میں شرکت سے متعلق درخواست،وزیراعظم کوحکم امتناعی نہ مل سکا

 

اسلام آباد ہائیکورٹ نے انتخابی مہم میں وزیراعظم اوروزرا کی شرکت پرپابندی کے خلاف وزیراعظم کی درخواست پرتحریری حکم نامہ جاری 

کردیا۔

The Prime Minister could not get a restraining order


جسٹس عامر فاروق نے 3 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔وزیراعظم عمران خان اوروزیرمنصوبہ بندی اسد عمر کوحکم امتناعی نہ مل سکا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کونوٹس جاری کرتے ہوئے 28مارچ تک جواب طلب کرلیا۔اٹارنی جنرل کوبھی معاونت کے لئے طلب کرلیا گیا۔

نوٹس کے باوجود الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہونے پرعمران خان اوراسد عمرکوحکم امتناعی نہ مل سکا۔ وزیراعظم عمران خان کے وکیل نے کہا کہ انتخابی مہم میں وزیر اعظم اور وزراء کی شرکت پابندی خلاف قانون ہے۔

 

The Prime Minister could not get a restraining order

 

thumbnail

روبوٹک اسٹیشن کا حامل طوفانی بارش میں اڑنے والا ڈرون

 

کیلیفورنیاعام ڈرون طوفانی بارش اور موسلا دھار بارش میں ڈگمگاجاتے ہیں۔ اب ایم 300 آر ٹی کے ڈرون نہ صرف اپنے ہی ہیلی پیڈ نما ڈاکنگ اسٹیشن سے پرواز کرتا ہے بلکہ تیزبارش اور برفباری میں بھی اپنی ہموار پرواز جاری رکھتا ہے۔

یہ ڈرون صنعتی اور فضائی معیارات کے تحت بنایا گیا ہے جسے ڈی جے آئی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ مکمل طور پر واٹر پروف  ہے جسے موسم سے بچاؤ کے لیے ہرطرف سے بند کیا گیا ہے۔ ڈی جے آئی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کا نیا ڈرون ماڈل تیزبارش، بہت بلندی، طوفانی ہواؤں، برفباری اور ژالہ باری کے ساتھ ساتھ منفی 20 کی سردی اور 50 درجے کی گرمی میں آسانی سے کام کرسکتا ہے۔

A drone flying in a rainstorm with a robotic station


گردوغبار اور پانی سے محفوظ اس ڈرون کی آئی پی 45 ریٹنگ ہے جس پر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ بہت سے ڈرون اس سے بلند معیار کے ہیں تاہم یہ فولڈ ہونے والے ڈرون میں سب سے نمایاں اور بہترین مقام رکھتا ہے۔ ایک مرتبہ چارج ہونے کے بعد یہ مسلسل 41 منٹ تک پرواز کرسکتا ہے۔

دوسرا اہم پہلو روبوٹک ڈرون ان اے باکس ہے کیونکہ اس ڈرون کے ساتھ ڈاکنگ اسٹیشن بھی موجود ہے جو اس کی پرواز کو مکمل طور پر خودکار بناتا ہے۔ یہ باکس اتنا چھوٹا ہے کہ ڈبل کیبن گاڑی کے ڈالے میں آسانی سے رکھا جاسکتا ہے۔ ڈاکنگ اسٹیشن میں ایک چھوٹا موسمیاتی اسٹیشن ہے، کیمرے نصب ہیں، اینٹیناہے اور اس کی بیٹری 25 منٹ میں تیزی سے چارج ہوجاتی ہے۔ یہ سات کلومیٹر کے فاصلے تک ڈرون سے رابطے میں رہتا ہے۔

تاہم تمام خواص کے باوجود امریکہ میں اسے وہاں نہیں اڑایا نہیں جاسکتا جہاں پائلٹ بردار طیارے پرواز کرتے ہیں۔ ان سب کے باوجود اس کا خودکار نظام بہترین اور مؤثر ہے۔

A drone flying in a rainstorm with a robotic station

thumbnail

چین کو 4.2 ارب ڈالر قرضے کی ادائیگی پھر موخر

 

اسلام آبادچین نے پاکستان کے ذمے اپنا 4.2 ارب ڈالر قرضہ جس کی ادائیگی اسی ہفتے کی جانا تھی پھر مؤخرکردی۔

وزیرخزانہ شوکت ترین نے گفتگو میں قرضہ مؤخر ہونے کی تصدیق کردی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے چین سے یہ قرضے مؤخرکرنے کی درخواست کی تھی۔



Delay in repaying 4. 4.2 billion Loan to China

اس خبر کے فائل کرنے تک چینی سفارتخانہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تھا۔چین آئی ایم ایف کو2019ء میں کرائی گئی یقین دہانیوں کے تحت پاکستان کے ذمے اپنے قرضے مؤخرکرتا آرہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے چند ماہ قبل اپنے دورہ چین کے دوران بھی ان قرضوں کو مؤخرکرنے کی درخواست کی تھی۔پاکستان نے 21 ارب ڈالر قرضوں کی لائف لائن مانگی ہے۔ ان میں 10.7 ارب ڈالر کمرشل اور سیف ڈیپازٹس کے قرضے شامل ہیں۔

پاکستان کے پاس گزشتہ ہفتے تک 15.8 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر تھے۔پاکستان کے ذمہ بیرونی ادائیگیوں کی وجہ سے روپے پردباؤپڑ رہا ہے اور منگل کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرکر181.75 روپے ہوگئی ہے۔

پاکستان نے کرنسی تبادلے کی سہولت کا حجم 4.5 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر کرنے کی بھی درخواست کی تھی جو 5.5 ارب ڈالر کا اضافی قرضہ ہے تاہم چین نے ابھی تک اپنے فیصلے سے پاکستان کو آگاہ نہیں کیا۔کرنسی تبادلے کا معاہدہ چینی تجارتی مالیاتی سہولت ہے ۔

Delay in repaying  4.2 billion Loan to China

thumbnail

ملک بھر میں ’’یوم پاکستان‘‘ ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے

اسلام آبادملک بھر میں یوم پاکستان قومی و ملّی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے،دن کاآغازمساجد میں خصوصی دعاؤں سے ہوا اور پاک فوج کی طرف سے توپوں کی سلامی دی گئی۔

یہ دن 23 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد کی یاد میں منایا جاتا ہے جس کی روشنی میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا خواب شرمندہ تعبیر کیا۔

"Pakistan Day" is being celebrated with enthusiasm across the country


یہ قرارداد لاہور منٹو پارک میں میں پیش کی گئی جہاں اس کی یادگار کے طور پر مینار پاکستان تعمیر کیا گیا۔ منٹوپارک  کے مقام پرآج گریٹراقبال پارک موجود ہے۔

اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی۔ دن کے آغازپرلاہورکی بادشاہی مسجد سمیت دیگرمساجدمیں نمازفجرکے بعد ملک کی ترقی،خوشحالی،سلامتی کے لئے خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی۔

تمام سرکاری و نجی عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے گئے ہیں، پاک فوج کی طرف سے وفاقی دارالحکومت میں 31جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21،21توپوں کی سلامی دی گئی۔

یوم پاکستان کی مناسبت سے مسلح افواج کی پریڈ کی اہم تقریب اسلام آباد میں ہوگی، جس میں صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، مسلح افواج کے سربراہان اور دیگر اہم سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات اور غیر ملکی مہمان شرکت کریں گے۔

کراچی میں قائد اعظم جبکہ لاہورمیں مزاراقبال پرگارڈزکی تبدیلی کی پروقارتقریب منعقد ہوئی، جس میں اعلیٰ حکومتی، عسکری شخصیات کی شرکت متوقع ہے، اس کے بعد عام شہریوں کو مزاراقبال اور قائد اعظم کی قبور پر حاضری دینے کی اجازت دی جائے گی۔

پاکستان میں بسنے والی اقلیتیں بھی یوم پاکستان بھرپورطریقے سے منا رہی ہیں، گرجا گھروں، مندروں اورگوردواروں میں بھی ملکی سلامتی اور امن و امان کے لیے خصوصی دعائیں کی جا رہی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا بیان

وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ 23 مارچ  تخلیق پاکستان کے حقیقی مقاصد انصاف اور مساوات  پر کاربند رہنے کے ہمارے عزم کی تجدید  کا دن ہے، آج ہم بابائے قوم اور تحریک آزادی کے ان تمام رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے بے مثال قربانیوں کے ذریعے قوم کو متحد کرنے کی جدوجہد کی۔

عمران خان نے کہا کہ نوجوانوں کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان ایک طویل جمہوری جدوجہد سے معرض وجود میں آیا  اور اب اس کے استحکام اور ترقی کی کلید سخت محنت ، دیانتداری اور اخلاقیات  میں  مضمر ہے، یہ دن مناتے ہوئے ہمیں قائد اعظم محمد علی جناح کے دیئے ہوئے سنہری اصولوں ایمان ، اتحاد اورتنظیم پر کاربند رہنے کی ضرورت ہے، ہمیں خود کو  ریاست مدینہ کی طرز پر ملک کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنانے کیلئے وقف کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بحیثیت قوم درپیش چیلنجوں کا ادراک کرنا چاہیے، ہماری حکومت نے غربت کے خاتمے اور انصاف کے فروغ کیلئے طویل المدت اصلاحات متعارف کرائیں اور اقدامات اٹھائے ہیں، ہماری توجہ معاشرے کے نظرانداز کیے جانے والے طبقے اور انہیں مساوی مواقع فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کامیاب پاکستان پروگرام نوجوانوں، کاشت کاروں، چھوٹے کاروبار اورکم لاگت کے مکانات کے شعبہ کیلئے زبردست اقتصادی فوائد کا حامل ہے، قومی صحت کارڈ کے فلیگ شپ پروگرام سے تمام شہریوں کو  صحت کی ہمہ گیر سہولیات فراہم ہوں گی جو ملک کی تاریخ میں ایک بے مثال پروگرام ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم اپنی عظمت رفتہ کی بحالی کی شاہراہ پر گامزن ہیں جس میں سابقہ حکومتوں نے خلل ڈالا تھا، ماضی کی حکومتوں  نے قومی مفاد اورعوام کی فلاح وبہبود کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی، کرپشن کے خاتمے اور اخلاقی معیارات کو بلند کرنے کی جدوجہد کیلئے اسی جذبے کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ  ہمارے آبا و اجداد نے تحریک آزادی کے دوران کیا تھا۔

وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھ سمیت تمام پاکستانیوں کو ملک کے عظیم بانیان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے یوم پاکستان کی مناسبت سے جاری اپنے پیغام میں کہا کہ یوم ِ پاکستان برصغیر کی تاریخ میں کئی حوالوں سے اہم دن ہے، 1940ء میں اس دن مسلمانوں نے ’’جداگانہ انتخاب‘‘ کی بجائے ’’علیحدہ ریاست‘‘ کا مطالبہ کیا۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ’اس دن مسلمانوں نے انگریزوں پر واضح کر دیا کہ کانگریس مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت نہیں، اس دن مسلمانوں نے واضح کیا کہ برصغیر کی تقسیم میں مزید تاخیر نہیں کی جا سکتی، ہمارا فرض ہے کہ ہم قوم کیلئے بروقت اور دانشمندانہ سیاسی فیصلے لینے والے بانیوں کو خراج عقیدت پیش کریں‘۔

صدر مملکت نے کہا کہ ’وقت نے مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے مطالبے کو سیاسی طور پر درست ثابت کیا ہے، جموں و کشمیر، بھارت میں مسلمانوں کی صورت حال واضح ثبوت ہیں کہ متحدہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کے رحم و کرم پر مسلمانوں کا کیا حشر ہوتا، ہمیں مختلف قومیتوں اور اقلیتوں کو ایک قوم میں یکجا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کو درپیش تمام چیلنجز پر اجتماعی کوششوں سے قابو پایا جا سکتا ہے، وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک معاشی طور پر مضبوط اور خوش حال ملک بن جائے گا،  ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے مل کر قومی اتحاد اور سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے‘۔

 

"Pakistan Day" is being celebrated with enthusiasm across the country

 

 


thumbnail

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کردیئے

 

الو آلٹو، کیلیفورنیایوٹیوب نے لائیو اسٹریم میں کئی اہم سہولیات اور آپشن پیش کئے ہیں ان میں سب سے اہم لائیو گیسٹ کے نام سے مہمانوں کو بھی ویڈیو اسٹریم میں شامل کرنے کی سہولت شامل ہے۔

دوسری جانب کسی کو بھی اسٹریمنگ لنک بھیج کر اسے دعوت دی جاسکتی ہے۔ دوسری جانب نوٹیفکیشن کو بہتر بنانے کے لیے 

اسٹریم دیکھنے کے کچھ پہلو بھی بہتر بنائے گئے ہیں۔

YouTube offers more live stream features


اسے مجموعی طور پر’گولائیو ٹوگیدر‘ کا نام دیا گیا ہے جسے جلد ہی صارفین دیکھ سکیں گے۔ یوٹیوب کے مطابق ایپ میں اس کا اظہار ہوجائے تو اور لایئواسٹریم دیکھنے کے سہولیات کو بھی اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

یوٹیوب کے مطابق اسٹریم براہِ راست نشر ہونے سے پہلے بھی آپ اپنے دوستوں سے اسکرین شیئر کرسکیں گے اور انہیں دعوت دے سکیں گے۔ دوسری جانب میزبان تمام اعداد وشمار کو قدرے نئے اور بہتر انداز میں دیکھ سکے گا لیکن یہ ڈیٹا مہمانوں کو نہیں دکھائی دے گا۔

یوٹیوب کے مطابق عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر اسٹریم ایک ہی شخص کنٹرول کرے تو اس پر بہت دباؤ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایک اور مہمان کو اسٹریم میں شامل کرکے اس کام کو اب آسان بنایا جاسکتا ہے۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایک وقت میں دو یوٹیوبر ایک ساتھ اسٹریم کرکے زائد رقم بھی کماسکیں گے۔

اس سے قبل یوٹیوب نے لائیو اسٹریم میں سرخ دائرے کا آپشن بھی پیش کیا تھا۔ پھر یوٹیوب نے ایک اور اعلان کیا تھا جس کے تحت ایک چینل سے دوسرے چینل تک لائیو ری ڈائریکشن کی سہولت پیش کرنا تھا۔ اس سے قبل یہ آپشن قریباً ناممکن تھا۔ اس طرح پہلے تو یوٹیوب ایپ کو ہی فائدہ ہوگا اور دوم ایک ساتھ کئی یوٹیوبر اپنے اپنے فالوورز کو ایک اسٹریم پر لاسکیں گے۔

تیسری تبدیلی لائیو اسٹریمنگ میں فل اسکرین بھی پیش کرنا ہے۔ اس کے علاوہ سوال و جواب کے فیچر کو بھی بہتر بنایا جارہا ہے۔

YouTube offers more live stream features

 

thumbnail

تحریک عدم اعتماد میں جتھے لاکر کسی رکن قومی اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی اجازت نہیں دیں گے۔سپریم کورٹ

 

اسلام آبادچیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد میں جتھے لاکر کسی رکن قومی اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

سپریم کورٹ میں سیاسی جماعتوں کو جلسوں سے روکنے کیلئے سپریم کورٹ بار کی درخواست پر سماعت ہوئی، تو پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی سماعت کے لیے عدالت پہنچے۔

سپریم کورٹ بار کے وکیل نے کہا کہ اسپیکر نے 25 مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا ہے حالانکہ آرٹیکل 95 کے تحت 14 دن میں اجلاس بلانا لازم ہے، 14 دن سے زیادہ اجلاس میں تاخیر کرنے کا کوئی استحقاق نہیں، تمام ارکان اسمبلی کو آزادانہ طور پر ووٹ ڈالنے کا حق ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ووٹ ڈالنا ارکان کا آئینی حق ہے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ کسی ایونٹ کی وجہ سے کوئی ووٹ ڈالنے سے محروم نہ ہو، یہ تمام اسمبلی کا اندرونی معاملہ ہے، بہتر ہوگا کہ اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے،  عدالت ابھی تک اسمبلی کی کارروائی میں مداخلت کرنے پر قائل نہیں، دیکھنا ہے کہ کسی کے حقوق متاثر نہ ہوں، عدالت صرف چاہتی ہے کہ کسی کے ووٹ کا حق متاثر نہ ہو، یہ تمام نکات اسپیکر کے سامنے اٹھائے جاسکتے ہیں۔

Political parties should not use D-Chowk


رکن کے انفرادی ووٹ کی حیثیت نہیں، سیاسی جماعت میں شمولیت کے بعد اجتماعی حق تصور کیا جاتا ہے، جسٹس منیب

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 17 سیاسی جماعتیں بنانے کے حوالے سے ہے، جس کے تحت سیاسی جماعت کے حقوق ہوتے ہیں۔ آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ کا حق سیاسی جماعت کا ہوتا ہے، آرٹیکل 95 دو کے تحت رکن کے انفرادی ووٹ کی حیثیت نہیں، نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کیس میں عدالت ایسی آبزرویشن دے چکی ہے، سیاسی جماعت میں شمولیت کے بعد اجتماعی حق تصور کیا جاتا ہے، آئین کی کس شق کے تحت رکن اسمبلی آزادی سے ووٹ ڈال سکتا ہے، بار کا کیس آئین کی کس شق کے تحت ہے یہ تو بتا دیں؟۔

بار کے وکیل نے جواب دیا کہ آرٹیکل 91 کے تحت ارکان اسمبلی اسپیکر اور دیگر عہدیداروں کا انتخاب کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ بار چاہتی ہے کہ ارکان جس کو چاہیں ووٹ ڈالیں، سوال یہی ہے کہ ذاتی چوائس پارٹی موقف سے مختلف ہو سکتی ہے یا نہیں؟، ووٹ کا حق کسی رکن کا absolute (مطلق) نہیں ہوتا۔

 بار کے وکیل نے آرٹیکل 66 کا بھی حوالہ دیا جس پر جسٹس منیب اختر نے ٹوکا کہ آرٹیکل 66 کے تحت ووٹ کا حق کیسے مل گیا؟ یہ تو پارلیمانی کارروائی کو تحفظ دیتا ہے۔

چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ آپ بار کے وکیل ہیں آپ کا اس عمل سے کیا تعلق؟، بار ایسوسی ایشن عوامی حقوق کی بات کرے۔

بار کے وکیل نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد بھی عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔

چیف جسٹس  نے کہا کہ بار بار پوچھ رہے ہیں سندھ ہاؤس میں کیا ہوا؟ بار ایسوسی ایشن کو سندھ ہاؤس پر بات کرتے ہوئے خوف کیوں آرہا ہے؟ اور عدم اعتماد کے حوالے سے کیا تحفظات ہیں۔

چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد سے پوچھا کہ کیا دفعہ 144 لگ گئی ہے؟، رپورٹ کے مطابق شام 5.42 بجے 35 سے 40 مظاہرین سندھ ہاؤس پہنچے تھے۔

سندھ ہاؤس واقعے پر شرمندہ ہیں، آئی جی اسلام آباد

آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ اسلام آباد میں پہلے سے ہی دفعہ 144 نافذ ہے، ریڈ زون کے اطراف تک دفعہ 144 کا دائرہ بڑھا دیا ہے، مظاہرین جتھے کی صورت میں سندھ ہاؤس نہیں آئے تھے، پولیس نے دو اراکین اسمبلی سمیت 15 افراد کو گرفتار کیا، پھر جے یو آئی نے بھی سندھ ہاؤس جانے کی کوشش کی، تو پولیس نے بلوچستان ہاؤس کے قریب جے یو آئی کارکنان کو روکا، سندھ ہاؤس واقعے پر شرمندہ ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ ہاؤس واقعہ پولیس کی اتنی ناکامی نظر نہیں آتا، بلکہ اصل چیز اراکین اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کا ہے، ڈی چوک پر ماضی قریب میں بھی کچھ ہوا تھا جس کے اثرات سامنے آئے، ہفتے کو کیس سننے کا مقصد سب کو آئین کے مطابق کام کرنے کا کہنا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی طاقت پارلیمنٹ میں ظاہر کریں، سیاسی جماعتیں بتائیں وہ کیا چاہتی ہیں، پولیس کسی رکن اسمبلی پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتی ہے، لیکن رکن اسمبلی قانون توڑے گا تو پولیس بھی ایکشن لے گی، عدالت نے سیاسی قیادت کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنا ہے تاکہ جمہوریت چلتی رہے ، حساس وقت میں مصلحت کیلئے کیس سن رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ سندھ ہاؤس پر حملے کا کسی صورت دفاع نہیں کرسکتا، میں نے وزیر اعظم کو عدالت کی تشویش سے آگاہ کیا، اس پر وزیر اعظم نے کہا پرتشدد مظاہرے کسی صورت برداشت نہیں، سندھ ہاؤس واقعے کی ایف آئی آر درج ہو چکی ہے جس کو شکایت ہے وہ متعلقہ فورم سے رجوع کریں، سندھ ہاؤس جیسا واقعہ دوبارہ نہیں ہونا چاہیے، او آئی سی کانفرنس کی وجہ سے ریڈ زون حساس ترین علاقہ ہے، ہمیں سپریم کورٹ بار کی استدعا سے کوئی اختلاف نہیں، وزیراعظم سے گفتگو کے بعد عدالت کو کچھ باتیں واضح کرنا چاہتا ہوں۔

قومی اسمبلی اجلاس کے موقع پر کوئی جتھہ اسمبلی کے باہر نہیں ہوگا، حکومت

اٹارنی جنرل نے حکومت کی طرف سے یقین دہانی کرائی کہ قومی اسمبلی اجلاس کے موقع پر کوئی جتھہ اسمبلی کے باہر نہیں ہو گا، کسی رکن اسمبلی کو ہجوم کے ذریعے نہیں روکا جائے گا، کئی سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے بیانات دیے ہیں، ہم پولیس اور متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کررہے ہیں، عوام کو اسمبلی اجلاس کے موقع پر ریڈزون میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی، کوئی رکن اجلاس میں نہ آنا چاہیے تو زبردستی نہیں لایا  جائے گا، پارٹی سربراہ آرٹیکل 63 اے کے تحت اپنا اختیار استعمال کر سکتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالنے والوں کو روکا نہیں جاسکتا، اس نقطے پر حکومت سے ہدایات کی بھی ضرورت نہیں، البتہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالنے پر آرٹیکل 63 اے کی کارروائی ہو گی، حکمران جماعت پر ہارس ٹریڈنگ کا کوئی الزام نہیں، کسی اپوزیشن جماعت پر بھی الزام نہیں لگاؤں گا، کوئی بھی سرکاری آفیسر غیر قانونی حکم ماننے کا پابند نہیں، یقین دہانی کرواتا ہوں کہ پارلیمانی کارروائی آئین کے مطابق ہوگی، آئینی تقاضوں کو پورا نہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، ہم سپریم کورٹ سے کوئی حکم امتناع نہیں مانگ رہے اور صدارتی ریفرنس کی وجہ سے قومی اسمبلی کی کارروائی بھی متاثر نہیں ہوگی۔

اٹارنی جنرل نے نکتہ اٹھایا کہ کسی کو ووٹ کا حق استعمال کرنے سے روکا نہیں جاسکتا، لیکن ووٹ شمار ہونے پر ریفرنس میں سوال اٹھایا ہے، ووٹ ڈالنے کے بعد کیا ہوگا یہ ریفرنس میں اصل سوال ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ ہاؤس واقعہ پر اٹارنی جنرل کا موقف خوش آئند ہے، توقع ہے حکومت بھی سندھ ہاؤس واقعے کی مذمت کریگی، تمام سیاسی جماعتیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہیں، مگر بعض غیر ذمہ داران سیاست میں آکر ایسی کوئی حرکت کرسکتے ہیں، صدارتی ریفرنس کی سماعت لارجر بینچ کرے گا، ہمارے پاس دستاویزات نہیں ہے کہ 25 مارچ کو اسمبلی اجلاس بلانے کی کیا وجہ ہے، اس عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنا ہے، ہمیں 24 تاریخ کو مواد لاکر دکھا دیں، اگر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہوئیں تو کوڈ آف کنڈکٹ بنا لیں گے۔

اپوزیشن لیڈر کے وکیل نے بھی پرامن جلسوں کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ چاہتے ہیں تمام عمل امن و امان کیساتھ مکمل ہو۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ پی ٹی آئی اور اپوزیشن ضلعی انتظامیہ سے ملکر جلسوں کی جگہ کا تعین کریں، اس سے تصادم کا خطرہ نہیں ہوگا۔

اسپیکر کی رولنگ عدالتی دائرہ اختیار سے باہر ہے، چیف جسٹس

پی پی پی کے وکیل فاروق نائیک نے اعتراض اٹھایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے بروقت اجلاس کیوں نہیں بلایا۔اس پر چیف جسٹس نے کہا اسپیکر کی رولنگ عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے، اسپیکر پر کوئی اعتراض ہو تو پارلیمنٹ میں اٹھائیں ، اسپیکر بھی آئین کا حصہ ہے، اٹارنی جنرل نے یقین دلایا ہے کہ حکومت پرامن انداز میں احتجاج کرے گی۔

عدالت کی ہدایات

چیف جسٹس نے کہا کہ کوشش کریں ڈی چوک پر جلسہ نہ ہو، اکھٹے بیٹھ کر اتفاق رائے پیدا کریں، لوگوں کو لاکر کسی ووٹ ڈالنے والے کو روکنے کی اجازت نہیں دینگے، ڈی چوک کا استعمال نہ کریں، جو بھی احتجاج اور جلسے ہوں ضلعی انتظامیہ کی مشاورت سے ہوں، ایک جماعت جہاں جلسہ کر رہی ہو وہاں دوسری کو اجازت نہیں ہوگی، دونوں فریقین کے جلسوں کا وقت الگ ہو تاکہ تصادم نہ ہوسکے، ریفرنس پر حکومتی اتحادیوں کو نوٹس نہیں کر رہے، تمام جماعتیں تحریری طور پر اپنا موقف دینگی، کسی کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کا کوئی سوال ریفرنس میں نہیں اٹھایا گیا، موجودہ حالات میں حکومت کا موقف بہت بہتر نظر آ رہا ہے۔

جے یو آئی کے وکیل نے کہا کہ ہم نے او آئی سی کے احترام میں 23 مارچ کو ہونے والا جلسہ 27 تک ملتوی کیا، لیکن حکومت کہہ رہی ہے کہ جو اراکین ووٹ ڈالنے جائیں وہ جتھے سے گزر کر آئیں گے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جتھے سے گزر کر آنا جانا نہیں ہو سکتا، یہ ہم نہیں ہونے دیں گے، صدارتی ریفرنس کی وجہ سے پارلیمنٹ کی کارروائی تاخیر کا شکار نہیں ہوگی، کوشش کریں گے جلد ریفرنس پر اپنا فیصلہ دیں۔

عدالت نے کیس کی سماعت 24 مارچ جمعرات تک ملتوی کردی۔

Political parties should not use D-Chowk